بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

تحریر لوڈ ہو رہی ہے...

رمضان : روح کی بیداری اور انقلاب کا پیش خیمہ

ماہِ نو سے عہدِ نو تک

رمضان المبارک محض ایک مہینہ نہیں، بلکہ ایک نظامِ زندگی ہے۔ یہ وہ مبارک ساعتیں ہیں جب آسمان سے رحمتوں کی رم جھم برستی ہے اور زمین کا چپہ چپہ نورِ الٰہی سے منور ہو جاتا ہے۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ ہم اکثر اسے ایک عارضی روحانی میلہ سمجھ لیتے ہیں۔ عید کا ہلال نظر آتے ہی مساجد کی رونقیں رخصت ہونے لگتی ہیں اور مصلوں پر گرد جمنے لگتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ رمضان کا رخصت ہونا، نیک نیتی اور عبادت کا خاتمہ نہیں بلکہ اس تربیت کے نفاذ کا آغاز ہے جو ہم نے تیس دن تپتی دوپہروں اور جاگتی راتوں میں حاصل کی تھی۔

رمضان : روح کی بیداری اور انقلاب کا پیش خیمہ
رمضان : روح کی بیداری اور انقلاب کا پیش خیمہ

روزے کا فلسفہِ اور قرآنی ہدایت

قرآن حکیم نے روزے کی فرضیت کا مقصد محض پیاس اور بھوک کی مشق نہیں، بلکہ "تقویٰ" قرار دیا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ (البقرة: 183)

ترجمہ: اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے جس طرح تم سے پہلوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو۔

تقویٰ وہ ڈھال ہے جو سال بھر نفس کے حملوں سے بچاتی ہے۔ اگر رمضان کے بعد بھی ہمارے دل میں اللّٰہ کا ڈر اور گناہوں سے بچنے کی تڑپ باقی نہ رہی، تو ہمیں اپنے روزوں کے مغز پر غور کرنا چاہیے۔ اللّٰہ کا رب صرف رمضان کا رب نہیں، وہ ہر لمحہ اور ہر آن شاہد و ناظر ہے۔

فکرِ عمل اور تسلسلِ بندگی

عبادت میں استقامت: ایک ادبی زاویہ

ادب کی زبان میں کہا جائے تو رمضان ایک "تخلیقی عمل" ہے جو انسان کی شخصیت کی نوک پلک سنوارتا ہے۔ جس طرح ایک شاعر اپنے کلام کو بار بار تراشتا ہے، اسی طرح روزہ دار تیس دن اپنے نفس کو تراش کر ایک "کامل انسان" بننے کی کوشش کرتا ہے۔ رسول اللّٰہ ﷺ کا فرمانِ عالی شان ہے:

أَحَبُّ الأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ أَدْوَمُهَا وَإِنْ قَلَّ. (صحیح بخاری)

ترجمہ: اللّٰہ کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل وہ ہے جس میں ہمیشگی اور تسلسل ہو، چاہے وہ تھوڑا ہی کیوں نہ ہو۔

رمضان کے بعد ہماری نمازوں کا تسلسل یہ ثابت کرتا ہے کہ ہماری پیشانی سجدوں کی لذت سے آشنا ہو چکی ہے۔ اگر فجر کی اذان پر مصلے اب بھی آباد ہیں، تو سمجھ لیجیے کہ رمضان کا پیغام روح میں اتر چکا ہے۔

تلاوتِ قرآن: زندگی کا دائمی دستور

رمضان "شہر القرآن" ہے، لیکن قرآن کا تعلق کسی ایک مہینے سے نہیں بلکہ یہ تو زندگی کے ہر اندھیرے میں روشنی کا مینار ہے۔

ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَیْبَ فِیْهِ هُدًى لِّلْمُتَّقِیْنَ (البقرة: 2)

ترجمہ: یہ وہ کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں، ہدایت ہے ان لوگوں کے لیے جو ڈر رکھنے والے ہیں۔

پورے سال کے تناظر میں یہ پیغام ہے کہ ہم تلاوت کو صرف ثواب کا ذریعہ نہ سمجھیں، بلکہ اسے فہمِ دین اور عمل کا ضابطہ بنائیں۔ قرآن کی ایک آیت پر غور کرنا، ہزار رکعت نفل سے بہتر ہے، بشرطیکہ وہ فکر و عمل میں تبدیلی لائے۔

سماجی خوشبو اور کردار کی پختگی

سخاوت اور ہمدردی کا آفاقی پیغام

رمضان ہمیں بھوک کا احساس دلا کر انسانیت کے دکھ درد سے جوڑتا ہے۔ نبی کریم ﷺ رمضان میں تیز ہوا سے بھی زیادہ سخاوت فرماتے تھے۔ ادبِ عالیہ ہمیں سکھاتا ہے کہ انسان وہی ہے جو دوسروں کے کام آئے۔

ارشادِ نبوی ﷺ ہے:

خَيْرُ النَّاسِ مَنْ يَنْفَعُ النَّاسَ. (کنز العمال)

ترجمہ: بہترین انسان وہ ہے جو انسانوں کو نفع پہنچائے۔

رمضان کے بعد بھی یتیموں کی کفالت، بیواؤں کی مدد اور طالبِ علموں کی سرپرستی کا جذبہ مدہم نہیں ہونا چاہیے۔ اگر ہم نے رمضان میں زکوٰۃ و صدقات دے کر اپنا ہاتھ روک لیا، تو یہ بخل ہوگا، جبکہ اسلام ہمیں فیاضی کا عادی بنانا چاہتا ہے۔

حاصلِ کلام: ایک عہدِ وفا

رمضان کی تربیت کا نچوڑ یہ ہے کہ ہم اپنے اخلاق کو مہکائیں۔ زبان سے نکلا ہوا ہر لفظ خوشبو دار ہو، آنکھوں میں حیا کا نور ہو اور ہاتھوں میں خیر کی قوت ہو۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللّٰہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا:

مَنْ لَمْ يَدَعْ قَوْلَ الزُّورِ وَالْعَمَلَ بِهِ فَلَيْسَ لِلَّهِ حَاجَةٌ فِي أَنْ يَدَعَ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ. (صحیح بخاری)

ترجمہ: جو شخص جھوٹ بولنا اور اس پر عمل کرنا نہ چھوڑے، اللّٰہ کو اس کے کھانا پینا چھڑوانے کی کوئی حاجت نہیں۔ 

آئیں آج یہ عہد کریں کہ ہم رمضان کی شمع کو بجھنے نہیں دیں گے۔ عید کا دن دراصل خوشی کا نہیں بلکہ ذمہ داری کا دن ہے کہ ہم نے جو نور حاصل کیا ہے، اسے پورے سال اندھیروں میں بانٹنا ہے۔ اللّٰہ ہمیں استقامت عطا فرمائے اور ہمارے کردار کو اسلام کا آئینہ بنا دے۔

---
تحریر و ترتیب: محمد خالد سیف اللّٰہ قاسمی ابن محمد جہانگیر اُسراہی
استاذ جامعہ عائشہ صدیقہ نورچک، بسفی، مدھوبنی، بہار